Home / تازہ ترین موسمی صورتحال / 19 جولائی 2026 : ہفتہ وار #پیشگوئی (اگلے 7 دن): شمال مشرقی پنجاب میں 2 ہفتے کی تاخیر کیساتھ مون سون کا باقاعدہ آغاز متوقع۔

19 جولائی 2026 : ہفتہ وار #پیشگوئی (اگلے 7 دن): شمال مشرقی پنجاب میں 2 ہفتے کی تاخیر کیساتھ مون سون کا باقاعدہ آغاز متوقع۔

موسمیاتی ماڈل ای سی ایم اور آئیکون پاکستان کے بالائی نصف حصّے میں مون سون کی آمد پر متّفق! شدید بارشوں کے پیشِ نظر خیبر پختونخواہ اور کشمیر کے مقامی پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی جبکہ شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ! شمال مشرقی پنجاب میں 2 ہفتے کی تاخیر کیساتھ مون سون کا باقاعدہ آغاز متوقع۔

پیشگوئی کی مدّت: 19 جولائی 2026 (شام/ رات) سے 25 جولائی 2026 (رات) تک۔

متاثّرہ علاقے: مون سون ہواؤں کی پہنچ تک تمام علاقے۔

موجودہ صورتحال: بلآخر بالائی پاکستان میں ہمالیہ کے راستے مون سوں ہواؤں کی آمد شروع ہو چکی ہے، جس کے زیرِ اثر آج صبح سویرے آزاد کشمیر، سیالکوٹ، نارووال اور ملحقہ علاقوں سے بارش کی اطلاعات موصول ہوئیں (تصویر 5 دیکھیں)۔

مغربی ہواؤں کے ایک طاقتور سلسلے کا ملاپ آج دیر رات سے ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہونے والی مون سون ہواؤں سے متوقع ہے، جس کے سبب کہیں کہیں یا بڑے پیمانے پر تیز بارشوں کا آغاز متوقع ہے۔

تفصیلات:
🌧🌩 اسلام آباد، پنجاب اور آزاد کشمیر:
آج دیر رات (19 جولائی) کشمیر اور پنجاب کے شمالی علاقوں میں مغربی ہواؤں کے سلسلے کے زیرِ اثر مون سون بارشوں کا آغاز متوقع ہے جو کہ وقفے وقفے سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر 23 جولائی تک جاری رہ سکتی ہیں۔ متاثّر ہونے والے علاقوں میں آزاد کشمیر میں میرپور، کوٹلی، مظفّرآباد، راولاکوٹ اور ملحقہ علاقے جبکہ اسلام آباد سمیت پنجاب میں راولپنڈی، مری، چکوال، تلاگنگ، اٹک، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، گوجرانوالہ، جہلم، منگلا، لاہور، قصور، شیخوپورہ اور ملحقہ علاقے شامل ہیں۔ ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر گرج چمک اور 60 سے 75 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ہواؤں کیساتھ انتہائی تیز سے انتہائی شدید بارشوں کا امکان ہے! ممکنہ طور پر 175 سے 250 ملی میٹر جبکہ بعض مقامات پر 300 ملی میٹر سے زائد بارش ہو سکتی ہے۔ شمال اور مشرق کی جانب میں بارش کی مقدار زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
سپیل جب عروج پر ہوگا تو بارش کلاؤڈ برسٹ کی شدّت بھی اختیار کر سکتی ہے جس کے سبب شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال رونما ہونے اور کشمیر اور مری کے پہاڑوں کے مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔
اپنے علاقوں میں بارش کی ممکنہ مقدار جاننے کیلئے تصاویر 1 تا 4 دیکھیں۔

وسطی پنجاب میں 21 سے 25 جولائی کے درمیان کہیں کہیں یا بڑے پیمانے پر تیز سے انتہائی تیز بارشیں متوقع ہیں جو کہ فیصل آباد، جھنگ، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ، چنیوٹ، سرگودھا، خوشاب، میانوالی، بھکّر، ساہیوال، بہاولنگر اور ملحقہ علاقوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، جہاں مجموعی طور پر 75 سے 120 ملی میٹر جبکہ بعض علاقوں میں 150 ملی میٹر سے زیادہ بارش متوقع ہے۔ وسطی پنجاب میں مغربی ہواؤں سے ملاپ کے سبب بالخصوص سرگودھا اور خوشاب کے علاقوں میں چند مقامات پر انتہائی تیز بارش کا سبب بھی بن سکتی ہیں جہاں مختصر دورانئے میں ہی 100 ملی میٹر سے زائد بارش کا امکان موجود ہے۔ گرج چمک کے طوفان بننے کے نتیجے میں آندھی کی رفتار درج بالا علاقوں میں 70 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر سکتی ہے۔
اپنے علاقے میں ممکنہ بارش کی مقدار جاننے کیلئے تصاویر 1 اور 2 دیکھیں۔

جنوبی پنجاب میں 22 سے 25 جولائی کے درمیان کہیں کہیں چند مقامات پر معتدل سے تیز بارش متوقع ہے جن میں ملتان، ڈی جی خان، مظفّرگڑھ، کوٹ ادّو، لیّہ، راجنپور، بہاولپور اور رحیم یار خان کے علاقے شامل ہیں، جہاں اس دوران 50 سے 70 ملی میٹر بارش متوقع ہے، جس کی مقدار سلیمان کے پہاڑی سلسلے کے قریب زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ گرج چمک کے طوفان بننے کے نتیجے میں آندھی کی رفتار 50 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ تک رہنے کا امکان ہے۔
اپنے علاقوں میں بارش کی ممکنہ مقدار جاننے کیلئے تصاویر 1 تا 3 دیکھیں۔

🌧🌩 خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان:
آج دیر رات (19 جولائی) سے 23 جولائی کے درمیان ہزارہ اور مالاکنڈ کے علاقوں بشمول ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالاکوٹ، وادیِ کاغان، وادیِ سوات، مردان، صوابی، ہریپور، بالائی اور زیریں دیر، شانگلہ اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں یا بڑے پیمانے پر تیز سے انتہائی تیز بارشیں متوقع ہیں، جہاں اس دوران مجموعی طور پر 150 سے 200 ملی میٹر جبکہ بعض مقامات پر 250 ملی میٹر سے زیادہ بارش کا امکان ہے۔ تیز بارش کے سبب مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور شہری علاقوں کے زیرِ آب آنے کا خدشہ موجود ہے۔ زیادہ سے زیادہ ہواؤں کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
اپنے علاقوں میں ممکنہ بارش کی مقدار تصاویر 1 اور 2 میں جانیں۔

وادیِ پشاور، کوہاٹ، ہنگو، ڈی آئی خان، بنّوں، لکّی مروت، مُہمند، پاراچنار، کرّم اور شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بھی کہیں کہیں یا چند مقامات پر بارش متوقع ہے جہاں 20 سے 50 ملی میٹر بارش مختلف مقامات پر ہو سکتی ہے۔ درج بالا مقامات پر زیادہ سے زیادہ ہواؤں کی رفتار 50 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے کا امکان ہے جبکہ بارش کی مقدار اور امکانات جنوب اور مغرب کی سمت میں کم رہیں گے۔
اپنے علاقوں میں ممکنہ بارش کی مقدار تصاویر 1 اور 2 میں جانیں۔

گلگت، سکردو، چلاس، چترال، دروش اور مون سون ہواؤں کی پہنچ سے دور شمال مغربی خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں میں بارش کے امکانات 30 فیصد سے بھی کم ہیں، جہاں بارش ہونے کی صورت میں بھی مقدار 5 سے 10 ملی میٹر سے تجاوز سے کم رہنے کا امکان ہے۔ البتّہ اس دوران مطلع ابر آلود ہو سکتا ہے۔ استور میں مغربی ہواؤں کے زیرِ اثر بارش کے امکانات کافی بہتر ہیں جہاں 10 سے 15 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے۔
اپنے علاقوں میں بارش کی ممکنہ مقدار تصاویر 1 اور 2 میں جانیں۔

🌧🌩 بلوچستان:
22 سے 25 جولائی کے درمیان صوبے کے شمال مشرقی، مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں بشمول بارکھان، کوہلو، ژوب، لورالائی، زیارت، ہرنائی، قلّات، خضدار، سبّی، ڈیرہ بگٹی، لسبیلہ، اواران، نصیر آباد، جعفر آباد اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں یا چند مقامات پر مغربی ہواؤں سے ملاپ کے سبب گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان موجود ہے۔ ان علاقوں میں چند مقامات پر 30 سے 60 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ آندھی کی رفتار 70 کلومیٹر فی گھنٹہ تک متوقع ہے۔
کوئٹہ میں بارش کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، جہاں مطلع زیادہ تر صاف یا جزوی ابر آلود رہنے کیساتھ ساتھ جنوب مشرق کی سمت سے 40 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی ہوائیں دن کے وقت چلتے رہنے کی توقع ہے۔
تصاویر 1 اور 2 میں اپنے علاقوں کی ممکنہ بارش کی مقدار جانیں۔

ساحلی علاقوں کو چھوڑ کر مغربی اور جنوبی بلوچستان (بشمول چاغی، خاران، دالبندین، نوکنڈی، تربت، کیچ، پنجگور، واشک اور ملحقہ علاقوں) میں تیز گرد آلود ہواؤں کیساتھ موسم انتہائی گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے جہاں ہواؤں کی رفتار 75 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر سکتی ہے جبکہ بارش کا کوئی امکان نہیں۔

🌧🌩 سندھ:
مغربی اور شمالی سندھ بشمول جیکب آباد، لاڑکانہ، موئنجو دڑو، دادو، نوشہرو فیروز، نوابشاہ، سکّھر اور ملحقہ علاقوں میں 24 جولائی یا 25 جولائی کی درمیانی شب تیز ہواؤں اور گرج چمک کیساتھ معتدل سے تیز بارش کے 40 فیصد امکانات ہیں، جہاں کہیں کہیں 25 سے 40 ملی میٹر تک بارش متوقع ہے جبکہ آندھی کے دوران ہواؤں کی رفتار 65 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
متوقع موسمی سرگرمی مغربی ہواؤں کے ساتھ ملاپ کی صورت میں رونما ہوگی جس کے اثر انداز ہونے کے سب سے زیادہ امکانات کیرتھر کے پہاڑی سلسلہ کے قریبی علاقوں میں زیادہ ہیں جبکہ بارش کے امکانات اور مقدار مشرق / جنوب مشرق کی سمت میں کم ہوتے رہیں گے۔

سندھ کے جنوبی اور ساحلی علاقوں میں بشمول کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص، عمرکوٹ، ٹھٹّھہ، بدین اور تھرپارکر میں تیز سمندری ہوائیں جنوب مغرب/ مغرب کی سمت سے چلتی رہینگی، جن کی رفتار 45 سے 65 کلومیٹر فی گھنٹہ تک متوقع ہے۔ کراچی سمیت ساحلی سندھ میں مطلع زیادہ تر ابر آلود رہنے اور رات اور صبح کے اوقات میں بوندا باندی یا چند ایک مقامات پر ہلکی بارش ہو سکتی ہے، تاہم کوئی قابلِ پیمائش بارش کے امکانات موجود نہیں۔
اپنے علاقوں میں بارش کی ممکنہ مقدار تصاویر 1 اور 2 میں جانیں۔

🌡 درجہ حرارت کی پیشگوئی: ملک کے بالائی، وسطی اور مغربی علاقوں میں موجودہ معمول سے 1 سے 2 ڈگری زیادہ درجہ حرارت میں بارش/ آندھی کے سبب نمایاں کمی متوقع ہے جو کہ مغربی ہواؤں اور بارش سے متاثّرہ علاقوں میں گھٹ کر معمول سے 3 سے 6 ڈگری تک ٹھنڈے ہو سکتے ہیں۔

اس دوران سندھ کے جنوبی اور ساحلی علاقوں میں خوشگوار موسم کے ساتھ درجہ حرارت معمول کے مطابق یا معمول سے 2 ڈگری تک کم ریکارڈ کئے جانے کا امکان ہے۔ گوادر اور تربت سمیت بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے 1 سے 3 ڈگری کم جبکہ مغربی بلوچستان کے صحراؤں میں معمول سے 1 سے 3 ڈگری زیادہ ریکارڈ کئے جانے کی توقع ہے۔

❌❌ سفری انتباہ! کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے پہاڑوں میں انتہائی شدید بارشوں کے پیشِ نظر مسافر اور صیّاح حضرات اس دوران ان علاقوں میں سفر سے مکمّل گریز کریں۔
پہاڑوں میں طغیانی اور مٹّی کے تودے گرنے کا خطرہ موجود ہے۔ اچانک آتی طغیانی اپنے راستے میں سب کچھ بہا لے جاتی ہے اور جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ لہٰذا وادیِ نیلم، سوات، کاغان اور کمراٹ اور گلگت بلتستان کی جانب سفر سے مکمّل گریز کریں!

About amnausmani

Check Also

مون سون آؤٹ لوک 2026: پاکستان میں معمول سے کم بارش اور معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کئے جانے کا امکان!

ملک کے بیشتر حصّوں میں گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں کمزور ترین مون سون …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے