اطّلاق: 28 اگست 2026 تا 4 ستمبر 2026
متاثّر ہونے والے علاقے:
بالائی اور وسطی پنجاب اور خیبر پختونخواہ، آزاد کشمیر اور شمال مشرقی بلوچستان۔
مجموعی موسمی صورتحال کا خلاصہ:
آج اور کل (بروز اتوار) ملک کے بالائی علاقوں میں نمی کی مقدار میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ہفتے کی دوپہر یا شام سے اتوار تک مغربی ہواؤں کا سلسلہ بالائی علاقوں کو متاثّر کر سکتا ہے۔اس کی وجہ سے بالائی اور وسطی خیبر پختونخواہ، بالائی پنجاب بشمول اسلام آباد، اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان ہے۔
اس کے بعد مغربی بھارت پر ہوا کا کم دباؤ تشکیل پانےکا امکان ہے جو پنجاب اور کشمیر کے بالائی اور مشرقی علاقوں کی جانب مزید نمی والی ہواؤں کو دھکیلنےکا باعث بن سکتا ہے۔ جس سے بالائی پنجاب اور اسلام آباد میں تیز سےانتہائی موسلادھار بارش ہونے کا امکان ہے۔
پیر کی شام سے بدھ تک ہوا کا یہ کم دباؤ بھارت کے وسطی علاقوں کی جانب سے مزید مغرب کی سمت میں بڑھ سکتا ہے، ہوا کے اس پھیلاؤ کی وجہ سے ، گوجرانوالہ، گجرات اور لاہور ڈویژنز میں شدید بارش ہونے کا امکان ہے، جس کی شدت مون سون کی نوعیت کی ہو سکتی ہے۔ بالائی علاقوں میں موجود ایک موسمی ٹرف اس نظام کو مزید تقویت دے سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے بالائی اور وسطی علاقوں میں طاقتور گرج چمک اور 60 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی تیز ہواؤں کیساتھ بارشوں کا امکان ہے۔

پنجاب:
سب سے زیادہ بارش پنجاب کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں متوقع ہے۔ ان علاقوں میں راولپنڈی، اسلام آباد، اٹک، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور اور ملحقہ اضلاع شامل ہیں۔
چکوال، میانوالی، سرگودھا، فیصل آباد، تلہ گنگ اور بھکّر میں بھی بارش کا امکان ہے، تاہم ان علاقوں سے جنوب اور مغرب کی طرف جاتے ہوئے بارش کی مقدار میں تیزی سے کمی متوقع ہے۔
نقشوں میں دی گئی مقدار کو صرف ایک اندازہ سمجھا جائے۔ اس پیش گوئی کے مطابق اصل بارش نقشوں میں ظاہر کی گئی مقدار سے تقریباً دوگنی زیادہ ہو سکتی ہے۔
وسطی پنجاب کے علاقوں خصوصاً سرگودھا اور فیصل آباد میں بھی بارش کے امکانات ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور بنّوں کے علاقوں سے لے کر جنوب مغربی پنجاب بشمول ڈیرہ غازی خان تک بھی بارش ہو سکتی ہے، جہاں کےبلند علاقوں میں نسبتاً بارش کے امکانات زیادہ ہیں۔ اس دوران گرج چمک کے یہ طوفان ملتان میں بھی گرد آلود آندھی یا مٹّی کے طوفان کا سبب بن سکتے ہیں۔

آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ:
مجموعی طور پر کشمیر اور خیبر پختونخواہ میں بارش کی مقدار پنجاب کے مقابلے میں کم رہنے کی توقع ہے، تاہم آج اور کل (اتوار) سے بدھ تک 3 سے 4 مرتبہ بارش کے سلسلے بن سکتے ہیں۔میرپور، مظفّرآباد اور راولاکوٹ کے علاقوں میں تیز بارش کا امکان ہے، جہاں مجموعی بارش 40 سے 65 ملی میٹر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
خیبر پختونخواہ کے بیشتر مغربی، جنوبی اور انتہائی شمالی علاقوں میں نسبتاً کم بارش متوقع ہے۔ ان علاقوں میں ہر سلسلے کے دوران 25 ملی میٹر سے کم بارش ہونے کا امکان ہے جبکہ پورے ہفتے میں مجموعی بارش تقریباً 40 سے 50 ملی میٹر تک ہو سکتی ہے۔
خیبر پختونخواہ میں خاص طور پر اس ہفتے کے اختتام پر 50 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔

سندھ:
کراچی میں رات اور صبح کے اوقات کے دوران نچلی تہہ کے بادلوں سے پھوار یا ہلکی بارش کے تقریباً 30 فیصد امکانات ہیں، جہاں مختلف علاقوں میں بوندا باندی سے 2 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے۔
تاہم سندھ کے بیشتر علاقوں میں اس ہفتے بارش کے امکانات کم رہیں گے۔
بلوچستان:
شمال مشرقی بلوچستان میں مغربی ہواؤں اور نمی کے ملاپ کے سبب بارش کے امکانات بن سکتے ہیں۔ 29 اور 30 اگست کو ژوب، بارکھان، ڈیرہ بگٹی، خضدار اور لسبیلہ کے علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔ 31 اگست کو بھی ان علاقوں میں بارش کا ایک اور سلسلہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔ان علاقوں سے جنوب اور مغرب کی طرف جاتے ہوئے بارش کے امکانات بتدریج کم ہوتے جائیں گے۔ کوئٹہ، سبّی، قلّات اور چاغی کے اضلاع میں موسم خشک رہنے کی توقع ہے۔

ہواؤں کی صورتحال:
آج پنجاب کے میدانی علاقوں میں جنوب یا جنوب مشرق سے ہلکی ہوائیں چلنے کی توقع ہے۔ مغربی ہواؤں کے سلسلے کے پہنچنے پر بھی اسی نوعیت کی ہوائیں چلتے رہنے کا امکان ہے۔
بعض علاقوں میں مغربی ہواؤں کے زیرِ اثر 60 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آندھی چل سکتی ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر خطّہٰ پوٹھوہار (راولپنڈی، اسلام آباد، اٹک اور چکوال)، سرگودھا، گوجرانوالہ اور لاہور ڈویژنز میں پیدا ہو سکتی ہے۔
وسطی اور شمالی خیبر پختونخواہ اور بالائی پنجاب کے میدانی علاقوں میں بھی تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔ تاہم خطرناک نوعیت کی آندھی چلنے کے امکانات کم ہیں۔
درجہ حرارت اور ہیٹ انڈکس:
بالائی پنجاب، کشمیر اور شمال مشرقی خیبر پختونخواہ میں معمول کے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں وقتی کمی آنے کا امکان ہے، جہاں درجہ حرارت تقریباً 6 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہو سکتا ہے۔ خیبر پختونخواہ کے مغربی علاقوں، جنوبی پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے اور بعض علاقوں میں یہ درجہ حرارت معمول سے تقریباً 5 ڈگری تک بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔
زیادہ نمی کی وجہ سے دوپہر کے وقت محسوس ہونے والی گرمی، یعنی ہیٹ انڈیکس تقریباً 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے وسط تک پہنچ سکتا ہے۔
کشمیر، گلگت بلتستان اور شمالی خیبر پختونخواہ کے پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت معمول کے آس پاس یا معمول سے تقریباً 2 ڈگری تک زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
Weather Busters Pakistan موسم کا حال