Home / تازہ ترین موسمی صورتحال / پیشگوئی (29 دسمبر 2025 تا 4 جنوری 2026): مری میں موسمِ سرما کی پہلی برفباری کا امکان۔ کوئٹہ سے پشاور تک بارش اور برفباری جبکہ میدانی علاقوں میں شدید دھند پڑنے کا امکان!

پیشگوئی (29 دسمبر 2025 تا 4 جنوری 2026): مری میں موسمِ سرما کی پہلی برفباری کا امکان۔ کوئٹہ سے پشاور تک بارش اور برفباری جبکہ میدانی علاقوں میں شدید دھند پڑنے کا امکان!

پیشگوئی (29 دسمبر 2025 تا 4 جنوری 2026):
مری میں موسمِ سرما کی پہلی برفباری کا امکان۔ کوئٹہ سے پشاور تک بارش اور برفباری جبکہ میدانی علاقوں میں شدید دھند پڑنے کا امکان!

⦾ کیا ہونا ہے؟
مغربی ہواؤں کے یکے بعد دیگرے 2 سلسلے ملک کے مختلف علاقوں کو متاثّر کرنے کا امکان ہے، جس کے باعث بادل، بارش اور برفباری جبکہ بلوچستان میں تیز ہوائیں چلنے کی توقع ہے۔

⦾ کب ہونا ہے؟
29 دسمبر 2025 سے 4 جنوری 2026 تک

⦾ کہاں ہونا ہے؟
ملک بھر میں۔

➡ خلاصہ:
موجودہ مغربی ہوائیں 27 دسمبر سے ملک کے بالائی اور مغربی حصّوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوۓ ہیں۔ اب دوسرا اور زیادہ طاقتور سلسلہ 30 دسمبر سے 2 جنوری کے درمیان ملک کے مختلف علاقوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے جس کو بحیرہ عرب سے آنے والی نم ہواؤں کی مدد حاصل ہوگی۔

تفصیلات :
29 دسمبر 2025 سے یکم جنوری 2026 کے درمیان موسم خاصا سرگرم رہنے کا امکان ہے۔

🌧🌩 پنجاب:
اٹک، راولپنڈی، اسلام آباد، چکوال، میانوالی، تلہ گنگ، جہلم، سرگودھا، بھکّر، لیّہ، فیصل آباد اور ڈی جی خان کے اضلاع میں مختلف مقامات پر ہلکی گرج چمک کے ساتھ درمیانی سے تیز بارش ہونے کا امکان ہے۔
مجموعی طور پر کُل 5 سے 15 ملی میٹر بارش ہو سکتی ہے، تاہم بلند پہاڑی مقامات کے قریب بارش کی مقدار 20 سے 30 ملی میٹر تک پہنچ سکتی ہے۔
مری میں رواں موسمِ سرما کی پہلی برفباری متوقع ہے، جہاں مجموعی طور پر 3 سے 6 انچ برف پڑ سکتی ہے۔ گلیات میں 8000 فٹ سے بلند مقامات پر 6 سے 12 انچ تک برفباری ہونے کا امکان ہے۔
صوبے کے شمالی اور مغربی علاقوں میں نسبتاً زیادہ بارش کا امکان ہے۔
پنجاب کے شمال مشرقی میدانی علاقوں بشمول گجرات، گوجرانوالہ، منڈی بہاؤالدّین، حافظ آباد، فیصل آباد، لاہور، سیالکوٹ، جھنگ، چنیوٹ اور گرد و نواح میں کہیں کہیں ہلکی بارش ہونے کا امکان ہے۔ ان علاقوں میں مجموعی طور پر 2 سے 5 ملی میٹر بارش متوقع ہے، جس کی شدّت اور مقدار جنوب مشرق کی سمت بڑھتے ہوۓ گھٹنے کی توقع ہے۔
دھند اور ابرآلود موسم کے باعث دن کے درجہ حرارت معمول سے 5 سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ کم رہنے کا امکان ہے۔

⦾ خیبر پختونخواہ:
6000 فٹ سے کم بلندی والے علاقوں میں معتدل سے شدید بارش متوقع ہے۔
دیر میں آئندہ 3 دنوں کے دوران مجموعی طور پر 12 سے 18 انچ تک برف پڑ سکتی ہے۔
مالاکنڈ، سوات ( بشمول کالام اور مالم جبّہ) میں 5500 فٹ سے بلند جبکہ شانگلہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ اور کوہستان کے 6500 فٹ سے بلند پہاڑی علاقوں میں 1 سے 2 فٹ تک برفباری متوقع ہے۔ 31 دسمبر کی رات برفباری کی سطح میں نمایاں کمی متوقع ہے جس کے سبب شمال مغربی خیبر پختونخواہ میں برفباری کی سطح 4000 فٹ یا اس سے بھی کم ہو سکتی ہے۔
چترال میں بھی اس دوران شدید برفباری کا امکان ہے، جہاں بعض موسمی ماڈلز کے مطابق 1 فٹ تک برف ہو سکتی ہے۔
مہمند، وادیِ پشاور، مردان اور صوابی میں ہلکی سے درمیانی کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ 15 سے 25 ملی میٹر تک ہونے کا امکان ہے۔ صوبے کے بالائی اضلاع میں بعض مقامات پر بارش کی کُل مقدار 75 ملی میٹر سے تجاوز کر سکتی ہے۔

⦾ گلگت بلتستان:
صوبے کے مغربی اور وسطی علاقوں میں شدید برفباری کا امکان ہے، جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں یک دم گراوٹ آ سکتی ہے۔ اس سلسلے کے دوران گلگت میں 2 سے 4 انچ، جبکہ استور اور سکردو میں مجموعی طور پر 3 سے 6 انچ تک برفباری ہو سکتی ہے۔
ان مغربی ہواؤں کے گزرنے کے بعد گلگت بلتستان میں شدید سردی کی لہر متوقع ہے۔

⦾ آزاد کشمیر:
مجموعی طور پر وادیِ نیلم اور مظفّرآباد کے مختلف علاقوں میں ہلکی سے معتدل بارش ہونے کا امکان ہے۔ جبکہ مظفّرآباد، باغ اور پونچھ (بشمول راولاکوٹ) میں اس دوران سرد درجہ حرارت میں انتہائی تیز بارش کا امکان ہے۔
وادیِ نیلم کے 8000 سے 9000 فٹ سے بلند علاقوں میں برفباری متوقع ہے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق شمالی کشمیر کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 20 سے 30 ملی میٹر جبکہ بعض مقامات پر 45 ملی میٹر تک بارش ہوسکتی ہے۔
کوٹلی، میرپور اور بھمبر کی جانب بارش کی مقدارمیں واضح کمی ممکن ہے۔ بھمبر میں صرف 5 سے 15 ملی میٹر بارش کا امکان ہے۔

⦾ بلوچستان:
کوئٹہ، زیارت اور قلّات میں 20 سے 30 ملی میٹر بارش ہونے کی توقع ہے، جبکہ کوئٹہ اور قلّات میں 1 سے 2 انچ تک برف بھی پڑ سکتی ہے۔ زیارت میں آئندہ چند دنوں کے دوران 5 سے 8 انچ برفباری ہونے کا واضح امکان ہے۔
صوبے کے مغربی اور وسطی علاقوں بشمول چمن، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور اور واشک میں 20 سے 30 ملی میٹر بارش جبکہ بلند پہاڑی علاقوں میں کہیں کہیں مجموعی طور پر 45 ملی میٹر سے زیادہ بارش بھی ہونے کا امکان ہے۔
تربت (کیچ) اور گوادر میں بھی 15 سے 25 ملی میٹر بارش ہونے کی توقع ہے۔
صوبے کے جنوب مغربی علاقوں میں شمال کی سمت سے 50 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ اس مغربی ہواؤں کے سلسلے کے دوران صوبے میں درجہ حرارت معمول سے 6 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ کم رہنے کا امکان ہے۔

⦾ جنوبی پنجاب اور سندھ:
زیادہ تر مطلع ابر آلود اور دھند چھائے رہنے کا امکان ہے، بالخصوص ملتان، بہاولپور اور سکّھر، جیکب آباد اور لاڑکانہ کے اضلاع میں۔ ان مقامات پر بارش کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
آئندہ چند دنوں کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے 3 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ کم رہ سکتے ہیں۔
کراچی میں 30 دسمبر کی شام سے 31 دسمبر کی صبح کے درمیان ہلکی سے معتدل بارش کے نمایاں امکانات ہیں جو کہ بوندا باندی سے 5 ملی میٹر تک ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔ حیدرآباد اور میرپور خاص میں بارش کے خاطر خواہ امکانات نہیں۔
مغرب کی سمت سے تیز ہواؤں (30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ) کے کم دباؤ کے سبب درجہ حرارت میں 3 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ کمی متوقع ہے۔
مزید اپڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں اور اردو ترجمے کے لیے ہماری ویب سائٹ فالو کریں۔

About amnausmani

Check Also

18 فروری 2026 : مغربی سلسلہ کمزور، سندھ اور بلوچستان کے چند علاقوں میں بارش۔ ٹھٹھہ میں 21 ملی میٹر ریکارڈ

  موجودہ مغربی ہواؤں کے کمزور سلسلے کے زیرِ اثر ملک کے جنوبی اور مغربی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے