ویدر بسٹرز پاکستان (موسم کا حال) کا فیس بک پیج اور ویب
سائٹ ایسے منتظمین کے زیرِ نگرانی کام کر رہا ہے جو ماحولیاتی
تجزیہ، موسمی ڈیٹا، پیشگوئیوں اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلّق
درست اور قابلِ اعتبار معلومات فراہم کرنے کی اہلیت اور
متعلّقہ تجربہ رکھتے ہیں۔
اس کے دو بنیادی ایڈمنز نے معروف ملکی اور غیر ملکی
یونیورسٹیوں سے ماحولیاتی انجینئرنگ میں بیچلر اور ماسٹرز کی
ڈگریاں حاصل کی ہیں اور وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگیوں میں بھی
کینیڈا اور پاکستان، دونوں ممالک میں ماحولیاتی تبدیلی کے
مطالعے میں سرگرم ہیں۔

ویدر بسٹرز پاکستان (WBP) کا ماننا ہے کہ وزارتِ دفاع کی یہ
اطلاع غلط معلومات کے پھیلاؤ اور عوامی تحفّظ جیسے نہایت
اہم مسئلے کو تسلیم کرتی ہے اور انفرادی اداروں یا ذرائع (جن کا
اس میں ذکر کیا گیا ہے اور دیگر بھی) کے خلاف موثّر کارروائی
کے ذریعے عوام میں خوف سے بچاؤ کیلئے بہت ضروری
ہے۔
موسم کا حال کا فیس بک پیج اور اس کی اردو ویب سائٹ
پاکستان میں موسم کی پیشگوئی، تازہ ترین صورتحال، انتباہات،
موسمی الرٹس اور خصوصاً طوفان سے منسلک رپورٹنگ کے
قابلِ اعتماد ذرائع میں سے ایک ہے۔
ہماری اس تنظیم کا مقصد پرائیویٹ موسمی سٹیشنز کی تنصیب
کے ذریعے اپنے 3 لاکھ 28 ہزار سے زائد مدّاحوں کو موسمیاتی
سرگرمیوں کی بہتر سمجھ دینا اور پاکستان کے دور دراز اور حسّاس
علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کی منظّم دستاویز بندی کرنا ہے۔
تاہم یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات
تھیں جن کی بنا پر ہمارے جیسے کچھ غیر سرکاری مگر قابلِ اعتماد
ذرائع وجود میں آئے؟
پاکستان آج بھی دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے ، جہاں
2025 تک شدید موسم کی فوری، مفصّل اور معیاری ابتدائی
معلومات سے عام عوام کو بروقت خبردار نہیں کیا جاتا۔
راولپنڈی اور کراچی میں پیدا اور بڑے ہونے کے باعث ہمیں
ہمیشہ بدلتے موسم کی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کا
شعور رہا ہے کہ خطرناک موسمی صورتحال کس تیزی سے پیدا ہو کر
تیز ہواؤں، ژالہ باری اور شدید بارشوں کے ذریعے بڑے
پیمانے پر تباہی مچا سکتی ہے۔
موسم کا حال نے ہمیشہ اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے جو
بروقت انتباہات کی عدم موجودگی سے پیدا ہوئی۔ پھر چاہے
وہ:
1) 26 اپریل 2015 کو وادیِ پشاور میں بڑے پیمانے پر تباہی
مچانے والے ہوا کے بگولے (جن کو متعلّقہ اداروں نے میڈیا
میں “mini-cyclone” کا نام دے دیا) ہوں، جن سے
درجنوں افراد جانبحق اور ہزاروں زخمی ہوۓ؛
2) یکم جون 2016 کو اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت پنجاب
کے دیگر علاقوں میں آنے والا شدید گرد کا طوفان ہو (جس میں
آندھی کی در حقیقت رفتار پنڈی اور اسلام آباد میں 180 کلومیٹر
فی گھنٹہ سے زیادہ تھی، تاہم متعلّقہ اداروں نے صرف 148
کلومیٹر فی گھنٹہ تک رپورٹ کی اور طوفان سے قبل کوئی
سرکاری انتباہ جاری نہیں کیا گیا تھا) جس سے 48 افراد ہلاک
اور 100 سے زائد زخمی ہوۓ؛
3) یا پھر دسمبر 2021، جنوری 2021، جنوری 2023، مارچ
2024، اور مئی 2024 کی ریکارڈ توڑ سردی کی لہریں ہوں جنہوں
نے ملک کے زیادہ تر علاقوں بشمول سندھ، بلوچستان اور
گلگت بلتستان کو متاثّر کیا اور بڑے پیمانے پر کُہرے نے تمام
صوبوں میں فصلوں کو برباد کیا۔ اس دوران متعلّقہ اداروں نے
نہ خطرناک سردی کے حوالے سے کوئی انتباہ جاری کیا اور نہ
ہی فصلوں کو کُہرے کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے
حوالے سے کسانوں کو خبردار کیا۔
درج بالا تمام نکات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ ہماری
تنظیم موسم کے حوالے سے فلاحی خدمات فراہم کرنے کے
عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے، کیونکہ آج بھی اس میدان میں
ایک بہت بڑا خلا موجود ہے جو کہ سرکاری سطح پر شدید موسمی
حالات کی قابلِ اعتماد بروقت آگاہی یا وارننگز کے اجراء کی
صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان محکمہ موسمیات (PMD) کو چاہئے
کہ وہ اپنے اس پہلو کو بہتر کریں اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ
اتھارٹی (NDMA) کے ساتھ مل کر اس سنگین مسئلے کے
حل کیلئے کام کریں ۔ویدر بسٹر پاکستان (موسم کا حال) چاہتا
ہے کہ یہ دونوں ادارے صرف آفات کے بعد امداد فراہم
کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کا مقصد ہونا چاہئے شدید
موسمی حالات کے رونما ہونے کی بروقت اطلاع اور ملک
کے ہر حصّے میں موسمی رصدگاہوں کی ہنگامی بنیادوں پر
تنصیب۔ اسکے علاوہ موسم کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی جاۓ
اور عوام تک بروقت معلومات فراہم کی جائیں تاکہ قیمتی
جانیں اور املاک محفوظ رہ سکیں۔
موسم کا حال (WBP) معروف عالمی جدید ترین ٹیکنالوجی کے
انتخاب کے ذریعے دستیاب شدہ بین الاقوامی موسمیاتی ماڈلز کا
انتخاب کرتا ہے تاکہ ماہانہ، ہفتہ وار اور 3 سے 5 روزہ پیشگوئیاں
اپنی تحقیق و تجزئے کے ذریعے عوام تک پہنچ سکیں جو کہ
گزشتہ کئی سالوں سے محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری
کردہ پیشگوئیوں سے کہیں افضل ثابت ہوئی ہیں۔
یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ WBP نہ صرف موسم کی اہمیت
کو اجاگر کر رہا ہے بلکہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات
کے تدارک کیلئے سخت جانچ کے عمل سے گزرتا ہے اور کسی
خبر کو شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق کرتا ہے۔
موسم کا حال (WBP) کا پختہ یقین ہے کہ محکمہ موسمیات
جیسے اداروں کو اپنے قومی مینڈیٹ کے تحت اپنی آن لائن
موجودگی کو بہتر بنانا چاہئے۔ نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ اپنی
ویب سائٹ پر بھی درست، واضح اور ہدفی پیشگوئیاں فراہم
کرنی چاہییں، بجائے اُن پرانی عمومی پیشگوئیوں کے جو نہ اعتماد
پیدا کرتی ہیں اور نہ عوام کو فیصلہ سازی کیلئے مناسب معلومات
دیتی ہیں۔
ہمیں ہر ہفتے درجنوں درخواستیں اور تاثّرات موصول ہوتے ہیں
اور ہزاروں لوگ ہم پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ الحمداللّہ ہم نے
اپنے فالوورز کے ساتھ ایک گہرا اعتماد اور رشتہ قائم کیا ہے۔
ہم محکمہ موسمیات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے
ڈوپلر ریڈارز کو فعال رکھے، خودکار موسمی سٹیشنوں (AWS) کو
ہر موسم میں آن لائن رکھے اور پوری قوم کیلئے اعلیٰ معیار،
تفصیلی اور متعلّقہ معلومات فراہم کرے۔
پاکستان زندہ باد!
خلوصِ دِل کے ساتھ،
موسم کا حال (WBP) ایڈمن ٹیم
Weather Busters Pakistan موسم کا حال