ہفتہ وار پیشگوئی: شدید مون سون بارشوں کا امکان
ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں مونسون کی موسلادھار بارشیں ہونے کی توقع۔ شمال مشرقی پنجاب اور جنوبی کشمیر میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ہونے کا امکان !
⦿ کیا ہوگا؟
شدید موسلادھار بارشوں کی وجہ سے، دیہی و شہری نشیبی علاقوں کے ساتھ ساتھ دریاؤں اور ندی نالوں میں #طغیانی آنے اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ۔
⦿ کب ہو گا؟ 21 اگست سے 26 اگست 2025 تک۔
⦿ کہاں: خیبر پختونخوا، پنجاب، آزاد کشمیر، سندھ اور شمال مشرقی و مشرقی بلوچستان۔

مجموعی صورتحال:
بھارت کے وسطی حصے پر موجود ایک اور مون سون ہواؤں کا ایک کم دباؤ پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کے ایک نئے سلسلے کا سبب بنے گا۔
پنجاب
شمالی اور وسطی پنجاب میں سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات، نارووال، لاہور، اوکاڑہ اور قصور کے علاقوں میں وسیع پیمانے پر موسلادھار سے طوفانی بارش کے ساتھ ساتھ کم شدت والے گرج چمک کے طوفان بھی متوقع ہیں۔ ICON اور ECM ماڈلز میں کچھ اختلاف ہے کہ سب سے زیادہ بارش کہاں ہوگی؟ (تفصیل کے لیے نقشہ 1 اور 3 ملاحظہ کریں)۔ تاہم اندازہ ہے کہ اس خطے میں 100 سے 150 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے۔جبکہ بالائی پنجاب بشمول پوٹھوہار ریجن (راولپنڈی/اسلام آباد، چکوال، تلہ گنگ، اٹک) میں 50 سے 75 ملی میٹر بارش اور چند مقامات پر 100 ملی میٹر سے زائد بارش ہونےکا امکان ہے۔
وسطی پنجاب ضلع سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ اور بھکر سے ملحقہ علاقوں میں بھی نمایاں بارش ہونے کی توقع ہے ۔ ان علاقوں میں کل 30 سے 50 ملی میٹر جبکہ بعض مقامات پر 80 ملی میٹر تک بارش ہونے کا امکان ہے۔اس بارش کا زیادہ تر رجحان شمال مشرقی پنجاب کی طرف رہے گا۔ شدید گرج چمک کے ساتھ ہوا کے جھکڑ 35 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا سکتے ہیں۔ اس غیر معمولی بارش کے نتیجے میں شمال مشرقی پنجاب کے شہروں میں شہری سیلاب (Urban Flooding) کا خدشہ ہے۔
⚠️ احتیاط کی سخت ضرورت ہے۔
دیگر نمایاں مقامات جہاں طوفانی بارش متوقع ہے ،ان میں جہلم، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، خوشاب، نورپور تھل اور چنیوٹ کے اضلاع شامل ہیں۔ یہ شدید بارش شہری علاقوں کے نشیبی حصوں میں سیلابی صورتحال پیدا کر سکتی ہے (تفصیل کے لیے بارش کا نقشہ 1 ملاحظہ کریں)۔
پنجاب کے جنوبی حصوں میں، مثلاً ملتان، وہاڑی، کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، رحیم یار خان اور راجن پور میں ایک یا دو مرتبہ گرج چمک کے ساتھ بارش کے امکانات ہیں، جن میں بعض مقامات پر 15 سے 25 ملی میٹر بارش ہو سکتی ہے۔ تاہم ملتان، وہاڑی، پاکپتن، حاصل پور اور فورٹ عباس کے علاقوں میں دو سے زیادہ مرتبہ گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی توقع ہے اور کچھ مقامات پرمجموعی طور پر 50 ملی میٹر سے زائد بارش ہونے کا امکان ہے۔

آزاد کشمیر
آزاد کشمیر میں آئندہ ہفتے کے دوران بیشتر علاقوں میں وسیع پیمانے پر موسلادھار سے طوفانی بارشوں کا امکان ہے ۔برنالہ، بھمبر، میرپور، ڈھڈیال اور کوٹلی سمیت زیادہ تر اضلاع میں بارش کی مجموعی مقدار 100 سے 150 ملی میٹر تک رہ سکتی ہے جبکہ بعض مقامات پر یہ مقدار 200 ملی میٹر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ آزاد کشمیر کے تمام علاقوں، بشمول مظفرآباد، راولاکوٹ اور کوٹلی میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر سفر کے لیے انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ شہریوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں کا رُخ نہ کریں، کیونکہ اچانک آنے والے سیلاب (Flash Flooding) اور بھاری لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے۔
پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں دن کے اوقات میں درجہ حرارت عمومی طور پر 2 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ معمول سے کم رہنے کا امکان ہے۔ اگرچہ موسمیاتی ماڈلز ICON اور ECM کشمیر کے لیے مختلف پیشگوئیاں کر رہے ہیں، تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس دوران ایک شدید بارش کا سلسلہ واقع ہو سکتا ہے، اس لیے اس موسمی صورتحال پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے (تفصیل کے لیے نقشہ 4 ملاحظہ کریں)۔
خیبر پختونخوا
صوبے کے شمال مشرقی حصوں میں، جو حالیہ سیلاب سے متاثر ہیں (صوابی، ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، بونیر، شانگلہ اور کوہستان)، میں شدید گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارشوں کا امکان ہے۔ جہاں مجموعی طور پر کل 65 سے 125 ملی میٹر تک بارش ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر ہزارہ ریجن میں کل بارش 150 ملی میٹر سے زیادہ بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
اس کے علاوہ مردان، نوشہرہ، مانسہرہ، سوات، دیر، بنوں اور کرک میں بھی 40 سے 80 ملی میٹر تک کے ایک اور بارش کےسلسلے کا امکان ہے۔ یہ بارشیں زیادہ تر بلند پہاڑی علاقوں کو متاثر کریں گی۔

پشاور میں بھی بارش کا 80 فیصد امکان ہے اور یہاں مجموعی طور پر 35 ملی میٹر سے زائد بارش ہونے کی توقع ہے۔ شدید گرج چمک کے طوفانوں کے دوران ہواؤں کی رفتار 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا سکتی ہے (تفصیل کے لیے نقشہ 1 اور 3 ملاحظہ کریں)۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر ایک سفر ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ شہریوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں کا رخ نہ کریں، کیونکہ اچانک آنے والے سیلاب (Flash Flooding) اور لینڈ سلائیڈنگ کی صورتحال جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے.

بلوچستان
شمالی اور مشرقی اضلاع (ژوب، سبی، ڈیرہ بگٹی، خضدار، بارکھان، لورالائی، پنجگور اور لسبیلہ) میں گرج چمک کے ساتھ عموماً 20 سے 30 ملی میٹر بارش متوقع ہے, جبکہ چند مقامات پر 50 ملی میٹر سے زائد بارش ہونے کا بھی امکان ہے۔ صوبے کے مشرقی پہاڑی سلسلے (کیرتھر ہلز) میں موسلادھار بارش سے مقامی #ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
صوبے کے جنوب مشرقی حصوں میں بھی کہی کہیں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ (تفصیل کے لیے بارش کا نقشہ نمبر 2 ملاحظہ کریں)
بلوچستان کے ساحلی علاقوں (بیلا، تربت، پنجگور) میں 22 اگست تک مطلع جزوی ابرآلود رہے گا ،اس دوران کہیں کہیں بارش کا امکان ہے۔ مغربی بلوچستان (چاغی ریگستان، نوشکی، دالبندین، خاران) میں موسم زیادہ تر خشک اور گرم رہے گا۔ یہاں درجہ حرارت معمول سے 2 سے 4 ڈگری زیادہ جبکہ ہواؤں کی رفتار 50 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
سندھ
کراچی میں 21 سے 22 اگست کے دوران گرج چمک کے ساتھ ایک اور بارش کے سلسلے کا امکان ہے۔ جیسے ہی مون سون ملک کے شمال کی طرف واپس منتقل ہو گا ان علاقوں میں بتدریج بارشوں میں کمی آئے گی۔(تفصیل کے لیے نقشہ نمبر 2 ملاحظہ کریں)۔
اس بار مون سون نے جنوبی سندھ، خاص طور پر جنوب مغربی علاقوں میں بھرپور انداز سے سرگرمی دکھائی اور یہاں تک کہ کراچی تک کو مغربی ہوا کے دباؤ (WD) کے ساتھ ملا۔ تاہم اب اس کی شدت میں بتدریج کمی واقع ہونے کی توقع ہے۔
تاہم صوبے کے جنوب مشرقی حصوں (ننگرپارکر، عمرکوٹ، مٹھی) میں 24 اگست تک مزید بارشوں کا امکان موجود ہے۔
اس کے علاوہ،50 فیصد امکان ہے کہ دادو، جیکب آباد، سکھر، خیرپور، لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ اور کشمور کے علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کے امکانات ہیں، مگر صوبے کے شمال مغربی حصوں میں اس سرگرمی کے زیادہ امکانات ہیں۔
📢 اپنی تصاویر اور ویڈیوز ہمارے ساتھ شیئر کریں۔ اگر آپ کسی ایسے علاقے میں ہیں جہاں سے بارش کی رپورٹ نہیں ملتی تو ہمارے ساتھ رابطہ کریں تاکہ بارش کی پیمائش کے لیے گیج فراہم کیا جا سکے۔
Weather Busters Pakistan موسم کا حال