1۔جوار یا چنے کی کاشت کرنے والے بارانی علاقوں کے کاشتکاروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ 6 اکتوبر سے 10 اکتوبر تک اپنی کاشت مکمل کر لیں، تاکہ 10 اکتوبر کے بعد متوقع بارشوں سے فصلوں کے اْگنے اور ابتدائی نشوونما میں فائدہ حاصل ہو اور بارشوں کی وجہ سے کاشت میں مزید تاخیر نہ ہو۔
2۔ کاشتکار گندم کی آئندہ فصل کے لیے زمین کی تیاری شروع کریں اور بارش کے پانی کو کھیتوں میں محفوظ کرنے کے لیے مناسب انتظامات کریں تاکہ دستیاب نمی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔
3۔ بارشوں اور تیز ہواؤں کے دوران ٹنل فارمنگ اور کھلی فصلوں کا خصوصی معائنہ کریں۔ ٹنل کی پلاسٹک شیٹس، ڈھانچے اور دیگر حفاظتی انتظامات کو مضبوط بنائیں تاکہ ممکنہ موسمی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔
4۔ پیاز اور دیگر سبزیوں کی نرسریوں میں نکاسی آب کا مناسب انتظام کریں تاکہ بارش کا پانی جمع نہ ہو۔ نرسریوں میں زیادہ نمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
5۔ فارموں اور زرعی ٹیوب ویلوں پر نصب سولر پینلز اور ان کے اسٹینڈز کا معائنہ کریں اور انہیں مضبوطی سے نصب کریں تاکہ تیز ہواؤں کے دوران ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔
6۔ مکئی، باجرہ اور دیگر تیار خریف فصلوں کی برداشت(کٹائی) کے لیے موزوں وقت کا انتخاب کریں اور ممکنہ بارشوں سے پہلے مکمل کرنے کی کوشش کریں تاکہ زیادہ نمی اور بارش سے پیداوار اور معیار متاثر نہ ہو۔
7۔ باغات میں نکاسی آب کا مناسب انتظام کریں اور جڑوں کو نقصان پہنچانے والی بیماریوں، خصوصاً فنگس اور مائٹس کے حملے پر خصوصی نظر رکھیں۔ پودوں کی جڑوں اور تنے کے گرد پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور بیماریوں کی علامات ظاہر ہونے پر زرعی ماہرین سے رجوع کریں۔
8۔ کاشتکار بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے اپنے کھیتوں میں چھوٹے چھوٹے بند (Field Bunds) بنائیں اور رین واٹر ہارویسٹنگ (Rainwater Harvesting) یعنی بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لئے بنیادی ڈھانچہ تیار کریں تا کہ یہ بارشی پانی آئندہ فصلوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
9۔ کسی بھی قسم کے موسمی یا زرعی نقصان کی صورت میں فوری طور پر محکمہ زراعت توسیع سے رابطہ کریں تاکہ بروقت تکنیکی رہنمائی اور ضروری مشاورت فراہم کی جا سکے۔
ڈاکٹر جان محمد
ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع)، کرک
Weather Busters Pakistan موسم کا حال