Home / تازہ ترین موسمی صورتحال / 16 تا 25 جنوری 2026 پیشگوئی : موسمیاتی ماڈلز کے مطابق سائبیریا کی برفیلی، یخ بستہ ہوائیں براہِ راست پورے پاکستان کو متاثّر کرتی نظر آرہی ہیں۔ درجہ حرارت نقطہ انجماد تک گرنے کا امکان۔

16 تا 25 جنوری 2026 پیشگوئی : موسمیاتی ماڈلز کے مطابق سائبیریا کی برفیلی، یخ بستہ ہوائیں براہِ راست پورے پاکستان کو متاثّر کرتی نظر آرہی ہیں۔ درجہ حرارت نقطہ انجماد تک گرنے کا امکان۔

کیا آپ پیشگوئی اس پر یقین کریں گے!؟؟؟
ایسی موسمی صورتحال جو کہ خطّے میں 100 سال سے زائد عرصے بعد رونما ہونے کے امکانات نظر آ رہے ہیں! اگلے 15 دنوں کی طویل عرصے پر مبنی پیشگوئی میں پشاور، اسلام آباد، راولپنڈی سے فیصل آباد اور لاہور تک برفباری کے امکانات جبکہ کراچی میں بھی درجہ حرارت نقطہ انجماد تک گرنے کی توقع! ابتدائی پیشگوئی ملاحظہ کریں!
یہ ابتدائی پیشگوئی ہے جس میں تبدیلی ممکن ہے۔ پیشگوئی کسی بھی موسمی واقعات کے رونما ہونے کے امکانات ظاہر کرتی ہے۔ 16 جنوری تک تفصیلی پیشگوئی اس متوقع سلسلے کے حوالے سے کی جاۓ گی
خلاصہ: موسم کا حال کے ایڈمنز موسمیاتی ماڈلز ECM، ICON اور GFS کا تجزیہ کرتے ہوۓ خود حیرت میں مبتلا تھے کہ یہ کیا ہونے جا رہا ہے! تمام موسمیاتی ماڈلز شدید موسمی حالات کی نشاندہی کر رہے ہیں جس میں سائبیریا کی برفیلی، یخ بستہ ہوائیں براہِ راست پورے خطّے کو متاثّر کرنے کے آثار دکھا رہی ہیں!
⦿ کیا ہونا ہے؟
ایسی سردی جو 100 سال سے زائد عرصے بعد پڑنے کے امکانات بن رہے ہیں! پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے میدانی علاقوں سے زیریں سندھ تک نقطہ انجماد سے کم درجہ حرارت ریکارڈ ہونے کی توقع!
⦿ کہاں ہونا ہے؟
ملک بھر میں۔
⦿ کب متوقع ہے؟
16 تا 25 جنوری 2026
متوقع موسمی صورتحال کا تجزیہ:
⦾ اس وقت موسمی صورتحال میں بدلاؤ آنا شروع ہو چکا ہے۔ مشرق وسطیٰ سے ایک کمزور ہوا کا کم دباؤ 11 سے 13 جنوری کے درمیان ملک کے جنوبی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسکے بعد 16 سے 18 جنوری کے درمیان ایک ملک گیر مغربی ہواؤں کا سلسلہ متوقع ہے۔ تاہم اسکے بعد 20 سے 25 جنوری کے درمیان موسمیاتی ماڈلز کی طویل عرصے پر مبنی پیشگوئی یہ نشاندہی کر رہی ہے کہ ہوا کا ایک طاقتور کم دباؤ سائبیریا اور وسطی ایشیا سے براہِ راست انتہائی سرد، برفیلی ہواؤں کو خطّے کی جانب کھینچ سکتا ہے، جس کے سبب ایسی موسمی صورتحال رونما ہونے کے امکانات ہیں جو کہ جنوری میں گزشتہ 100 سال سے زائد عرصے میں نہیں دیکھی گئی! تصاویر 2 اور 3 دیکھیں۔
⦾ 20 سے 25 جنوری 2026 کے درمیان متوقع موسمی صورتحال کی سرخیاں ملاحظہ کریں:
متوقع ریکارڈ توڑ درجہ حرارت:
1) راولپنڈی اور اسلام آباد: شہری علاقوں میں برفباری کے امکانات ہیں۔ کم سے کم درجہ حرارت منفی 5 ڈگری سینٹی تک گر سکتے ہیں جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 5 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رہنے کا امکان! ایسی صورتحال آخری مرتبہ جنوری 1964 میں دیکھی گئی تھی جب پنڈی شہر میں 4 انچ برفباری ریکارڈ کی گئی تھی۔
مری: کم سے کم درجہ حرارت منفی 13 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے جبکہ تیز ہواؤں کیساتھ شدید برفباری کئی بار ہو سکتی ہے۔
⦾ دیر: شہر میں 1 سے 2 فٹ تک برفباری متوقع ہے جبکہ کم سے کم درجہ حرارت منفی 15 سے منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کا امکان ہے، جس سے جنوری 1989 میں قائم شدہ منفی 10.6 ڈگری سینٹی گریڈ کا تاریخی ریکارڈ ایک بڑے فرق سے ٹوٹ سکتا ہے۔
⦾ لاہور: موسمیاتی ماڈلز کے مطابق لاہور شہر میں 5 انچ تک برفباری ممکن ہے۔ کم سے کم درجہ حرارت منفی 4 سے منفی 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کا امکان ہے! یہ حیران کُن صورتحال سن 1878 کے بعد رونما ہو سکتی ہے!
کوئٹہ: شہر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 20 سے منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت منفی 25 ڈگری تک گر سکتا ہے۔ ایسا سن 1970 کے بعد ہونے کا امکان ہے!
زیارت: کم سے کم درجہ حرارت منفی 25 سے منفی 20 جبکہ محسوس کی جانے والی سردی منفی 30 سے بھی کم متوقع ہے!
کراچی اور حیدرآباد: کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت نقطہ انجماد تک گر سکتا ہے جبکہ حیدرآباد میں منفی 2 سے 0 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔ ایسی موسمی صورتحال آخری مرتبہ سن 1929 اور 1934 میں رونما ہوئی تھی۔
اب بات کرتے ہیں برفباری کی جو کہ ایسے علاقوں میں متوقع ہے جہاں آپ نے کبھی دیکھی یا سنی بھی نہیں ہوگی! گوجرانوالہ، لاہور اور سیالکوٹ میں باقاعدہ برفباری کا امکان ہے۔
17 سے 25 جنوری 2026 کے درمیان ECM کے مطابق درج ذیل مقامات پر برفباری متوقع ہے (تصویر 1 دیکھیں):
⦾ راولپنڈی/ اسلام آباد: 40 سے 60 ملی میٹر بارش اور چند مقامات پر 80 ملی میٹر سے زائد بارش متوقع ہے (24 اور 25 جنوری کو شہری علاقوں میں 3 سے 6 انچ برفباری ممکن ہے، بالخصوص شمال مشرقی علاقوں میں)۔ مارگلہ کے پہاڑوں پر 1 سے 1.5 فٹ برف پڑ سکتی ہے۔
چکوال اور تلاگنگ: 25 سے 40 ملی میٹر بارش متوقع جبکہ 23 سے 25 جنوری کے درمیان 3 سے 6 انچ برفباری ممکن ہے۔
⦾ مری میں 17 سے 25 جنوری کے درمیان 2 سے 4 فٹ برفباری متوقع ہے۔
⦾ ایبٹ آباد شہر اور 4500 فٹ سے بلند مقامات: 6 سے 12 انچ برفباری ممکن ہے جو کہ 21 جنوری تک شروع ہونے کے امکانات ہیں، اور کُل 50 سے 75 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے۔
مظفّرآباد: 19 سے 25 جنوری کے درمیان شہر میں 1 سے 2 فٹ برفباری متوقع ہے جبکہ جگہ جگہ برف جمنے کے سبب پھسلن پیدا ہو سکتی ہے۔ کُل 75 سے 100 ملی میٹر تک بارش/ برفباری اس دوران ممکن ہے۔
⦾ پشاور: شہر میں 15 سے 25 ملی میٹر بارش جبکہ 23 سے 25 جنوری کے درمیان گیلی برف یا باقاعدہ برفباری بھی ہو سکتی ہے۔ کم سے کم درجہ حرارت منفی 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے!
⦾ وسطی اور شمال مشرقی پنجاب کے میدانی علاقوں بشمول فیصل آباد، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات اور سیالکوٹ میں بھی برفباری یا گیلی برف پڑنے کا امکان ہے! شمال مشرقی پنجاب میں انتہائی سرد درجہ حرارت میں بارش متوقع ہے جو کہ وقتاً فوقتاً برفباری میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ مجموعی طور پر 25 سے 50 ملی میٹر جبکہ بعض مقامات پر 65 ملی میٹر سے زائد بارش متوقع ہے۔ اس کے بعد درجہ حرارت نقطہ انجماد سے خاصے کم ممکن ہیں!
⦾ جنوبی پنجاب بشمول ملتان، بالائی سندھ بشمول سکّھر جبکہ جنوب میں کراچی تک 5 سے 10 ملی میٹر (بعض مقامات پر 25 ملی میٹر) تک بارش متوقع ہے، جو کہ برق رفتاری سے گزرنے والے شاورز کی صورت میں ہو سکتی ہے۔
بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں میں انتہائی سرد درجہ حرارت پر بارش اور برفباری متوقع ہے۔ اس دوران کوئٹہ اور قلّات میں 4 سے 6 انچ برفباری ممکن ہے۔ 21 سے 23 جنوری کے درمیان صوبے بھر میں 60 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی انتہائی سرد، برفیلی ہوائیں چلنے کا امکان ہے! شدید سردی میں نکلنے والے افراد کو فراسٹ بائٹ ہو سکتی ہے! درجہ حرارت کا معمول سے فرق اور متوقع بارش/ برفباری کی مقدار تصاویر 3 اور 4 میں جانیں۔
21 تا 25 جنوری 2026 تک بلوچستان میں انتہائی شدید سردی اور تیز برفیلی ہواؤں کی انتباہ عائد کی جا رہی ہے۔
انشاءﷲ 16 جنوری کو ان متوقع سلسلوں کے حوالے سے تفصیلی پیشگوئی پوسٹ کی جاۓ گی۔

About amnausmani

Check Also

18 فروری 2026 : مغربی سلسلہ کمزور، سندھ اور بلوچستان کے چند علاقوں میں بارش۔ ٹھٹھہ میں 21 ملی میٹر ریکارڈ

  موجودہ مغربی ہواؤں کے کمزور سلسلے کے زیرِ اثر ملک کے جنوبی اور مغربی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے