ہفتہ وار پیشگوئی (14 سے 20 اگست 2025): شدید مون سون بارشیں متوقع! چند مقامات پر 200 ملی میٹر سے زائد بارش ہو سکتی ہے۔ ملک بھر میں بارشوں کا امکان۔
⦿ کیا ہونا ہے؟
شدید ترین بارشوں کے سبب دریاؤں میں طغیانی اور شہری علاقے زیرِ آب آنے کا خدشہ۔
⦿ کب ہونا ہے؟
14 اگست سے 20 اگست 2025
⦿ کہاں ہونا ہے؟
خیبر پختونخواہ اور پنجاب، آزاد کشمیر، جنوبی سندھ، شمال مشرقی اور مشرقی بلوچستان۔

تجزیہ: اس وقت مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ اثر انداز ہو رہا ہے، جس کو بحیرہ عرب سے آنے والی نم ہواؤں کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے سبب 14 اور 15 اگست اور دوبارہ 18 تا 19 اگست کو اچھی خاصی بارش متوقع ہے، جب مغربی ہواؤں کا ایک اور سلسلہ خلیجِ بنگال سے آنے والی طاقتور نم ہواؤں سے ٹکرا سکتا ہے۔ یہ سلسلہ 20 اگست تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
⦾ شمالی اور وسطی پنجاب:
بالائی پنجاب بشمول خطّہٰ پوٹھوہار (راولپنڈی، اسلام آباد)، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سرگودھا، بھکّر، لاہور، اوکاڑہ اور قصور کے علاقوں میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کیساتھ بڑے پیمانے پر تیز سے انتہائی تیز بارشیں متوقع ہیں، جہاں 100 سے 150 ملی میٹر جبکہ بعض مقامات پر 200 سے 250 ملی میٹر بارش ہو سکتی ہے۔
شمال مغربی پنجاب بشمول تلاگنگ، چکوال اور اٹک کے علاقوں میں بھی 150 ملی میٹر تک بارش متوقع ہے۔ شمال مشرقی پنجاب میں 75 سے 125 ملی میٹر جبکہ وسطی اور جنوبی پنجاب میں اس دوران 50 سے 75 ملی میٹر سے زائد بارش ہو سکتی ہے۔ بارش کا زور زیادہ مغربی پنجاب کی جانب رہیگا۔ گرج چمک کے طاقتور طوفان بننے کی صورت میں ہواؤں کی رفتار 60 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کے آس پاس پہنچ سکتی ہے۔
جہلم، گجرات، منڈی بہاؤالدّین، خوشاب، نورپور تھل، سیالکوٹ، نارووال، پسرور اور چنیوٹ کے اضلاع میں بھی انتہائی تیز بارش متوقع ہے جس کے سبب نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال رونما ہو سکتی ہے (تصویر 1 دیکھیں)۔ عوام سے احتیاط کرنے اور انتظامیہ سے الرٹ رہنے کی گزارش ہے۔

⦾ خیبر پختونخواہ:
صوبے کے شمال مشرقی علاقوں بشمول صوابی، ہریپور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، بونیر، شانگلہ اور کوہستان کے اضلاع میں گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان ہے جہاں سب سے زیادہ بارش 150 ملی میٹر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ مردان، نوشہرہ، سوات اور دیر میں بھی 75 سے 125 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے۔ پشاور میں بھی اس دوران بارش کے 80 فیصد امکانات ہیں جہاں کم از کم 25 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے۔
گرج چمک کے طاقتور طوفان تشکیل پانے کی صورت میں ہواؤں کی رفتار 60 سے 75 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے (تصویر 1 دیکھیں)۔ شدید بارشوں کے پیشِ نظر پہاڑی علاقوں کی جانب سفر سے گریز کریں جہاں برساتی نالوں میں طغیانی اور مٹّی کے تودے گرنے کے واقعات جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں!
⦾ آزاد کشمیر:
آزاد کشمیر کے تقریباً تمام علاقوں بشمول مظفّرآباد، میرپور اور کوٹلی میں اگلے ہفتے کے دوران تیز سے انتہائی تیز بارشوں کا امکان ہے، جہاں بعض مقامات پر 150 ملی میٹر سے زائد بارش ہو سکتی ہے۔ چنانچہ وادیِ نیلم سمیت دیگر پہاڑی مقامات کی جانب سفر سے گریز کریں جہاں برساتی نالوں میں طغیانی اور مٹّی کے تودے گرنے کے واقعات جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں!
پنجاب، خیبر پختونخواہ اور کشمیر میں اس دوران دن کے درجہ حرارت معمول سے 4 سے 8 ڈگری تک کم رہنے کا امکان ہے۔

⦾ بلوچستان:
صوبے کے شمالی اور مشرقی علاقوں بشمول زیارت، ژوب، لورالائی، سبّی، ڈیرہ بگٹی، خضدار، بارکھان، پنجگور اور لسبیلہ کے علاقوں میں گرج چمک کیساتھ تیز بارش کا امکان ہے۔ صوبے کے مشرقی پہاڑی سلسلے (کوہِ کیرتھر) پر انتہائی تیز بارش ممکن ہے جس کے سبب مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا اندیشہ ہے۔ صوبے کے جنوب مشرقی حصّوں بشمول نصیر آباد اور جعفر آباد میں بھی کہیں کہیں طاقتور گرج چمک کے طوفان اور آندھی کیساتھ بارش متوقع ہے۔ اگلے ہفتے کے دوران درج بالا مقامات پرکم از کم 50 ملی میٹر جبکہ چند مقامات پر 80 ملی میٹر سے زائد بارش کے امکانات بڑھتے نظر آ رہے ہیں۔ (تصویر 3 دیکھیں)
بلوچستان کے ساحلی علاقوں اور تربت، پنجگور اور ملحقہ علاقوں میں اگلے کئی دنوں تک مطلع جوزی طور پر یا مکمّل ابر آلود رہنے کی توقّع ہے جس کے سبب دن کے درجہ حرارت معمول سے 3 سے 6 ڈگری کم رہنے کا امکان ہے۔ چاغی کے صحرائی علاقوں (دالبندین، نوکنڈی اور خاران) سمیت مغربی بلوچستان کے دیگر مقامات پر موسم خشک اور گرم رہنے کا امکان ہے جبکہ دن کے وقت گرم لو کے ٹھپیروں کی رفتار 70 سے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ ان علاقوں میں اس دوران درجہ حرارت معمول سے 3 سے 5 ڈگری تک زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
⦾ سندھ:
جنوب مشرقی سندھ بشمول نگرپارکر، عمرکوٹ، اسلامکوٹ اور مٹّھی میں 17 سے 18 اگست کے دوران مون سون کے نئے سپیل کا آغاز متوقع ہے، جہاں نمایاں مقدار میں بارش ہو سکتی ہے۔ گرج چمک کے طوفان بننے کے سبب کم از کم 1 سے 2 مرتبہ حیدرآباد، میرپور خاص، جامشورو اور کراچی میں بھی بارش متوقع ہے جس کی شدّت جنوب مغرب کی جانب بڑھتے ہوۓ کم ہونے کا امکان ہے۔ مغربی ہواؤں کے اثر کے سبب دادو، جیکب آباد، لاڑکانہ، سکّھر، خیرپور، قمبر شہدادکوٹ، کشمور اور ملحقہ علاقوں میں گرد کے طوفان اور گرج چمک کیساتھ بارش متوقع ہے، جس کی شدّت شمال مغرب کی جانب بڑھنے کا امکان ہے۔ 17 سے 19 اگست کے دوران کیرتھر کے پہاڑی سلسلے پر بھی گرج چمک کے طوفان بن سکتے ہیں جس کے نتیجے میں پہاڑیوں کی قریبی وادیوں (سہون، جوہی اور ملحقہ علاقوں) میں بھی گرد کے طوفان اور گرج چمک کیساتھ بارش ہو سکتی ہے۔ (تصویر 3 دیکھیں)
کراچی سمیت جنوبی سندھ میں 18 اگست تک دن کے درجہ حرارت موجودہ 30 سے 31 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ کر 34 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتے ہیں، جس کی وجہ مون سون سے منسلک ہوا کے کم دباؤ کے زیرِ اثر سمندری ہواؤں کا کٹاؤ اور سمندری بادلوں میں کمی ہے، جو کہ بارش سے قبل حبس اور گرمی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
موسمی سرگرمیوں کے دوران اپنے علاقے سے تصاویر اور ویڈیوز ہمیں ان باکس کریں۔ اگر آپ ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں سے ہم بارش رپورٹ نہیں کرتے تو ہم سے رین گیج حاصل کرنے کیلئے رابطہ کریں۔
Weather Busters Pakistan موسم کا حال