Home / تازہ ترین موسمی صورتحال / 28 جولائی 2025 : ہفتہ وار موسمی پیشن گوئی: مزید مون سون بارشیں متوقع، بالائی پنجاب/خیبرپختونخوا اور کشمیر میں دوبارہ سیلاب کا خدشہ

28 جولائی 2025 : ہفتہ وار موسمی پیشن گوئی: مزید مون سون بارشیں متوقع، بالائی پنجاب/خیبرپختونخوا اور کشمیر میں دوبارہ سیلاب کا خدشہ

ہفتہ وار موسمی پیشن گوئی: مزید مون سون بارشیں متوقع، بالائی پنجاب/خیبرپختونخوا اور کشمیر میں دوبارہ سیلاب کا خدشہ!
ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش کا امکان ہے!
5 روزہ تجزیے کے مطابق کچھ علاقوں میں 200 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہونے کا امکان!
● کیا ہوگا:
شدید سے موسلادھار بارشوں کی وجہ سے دریاؤں کے ساتھ دیہی و شہری نشیبی علاقوں میں مزید سیلاب کا خدشہ ہے۔
● کب:
27 جولائی سے 2 اگست 2025 تک
● کہاں:
پورے ملک میں

مجموعی صورتحال:
بھارت کے وسطی علاقوں میں ایک ہوا کا ایک کم دباؤ موجود ہے۔ جبکہ دوسری طرف ایک کمزور مغربی ہواؤں کا سلسلہ ملک کے (WD) بالائی و وسطی علاقوں کو متاثر کر رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف علاقوں میں مزید شدید موسمی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔

سیلاب کا انتباہ :
مندرجہ ذیل اضلاع/علاقوں کے لئے سیلاب کا انتباه جاری کیا جاتا ہے۔:
راولپنڈی، اسلام آباد، چکوال، تلہ گنگ، ہری پور، بالاکوٹ، مانسہرہ، سوات، کاغان، ناران، شوگران اور بابو سر ویلیز، مردان، اٹک، کوٹلی، میرپور، بھمبر، مظفرآباد، نیلم ویلی، جہلم، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، بھکر، میانوالی، گوجرانوالہ، لاہور اور ا س سے ملحقہ اضلاع میں۔

تفصیلات:
● شمالی و وسطی پنجاب:
28 جولائی کی رات یا  29  جولائی کی صبح سے 31 جولائی تک راولپنڈی، اسلام آباد، چکوال، تلہ گنگ، مری، جہلم، اٹک، گوجرانوالہ، سرگودھا، لاہور، سیالکوٹ، گجرات، منڈی بہاؤالدین، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، حافظ آباد اور ملحقہ اضلاع میں وسیع پیمانے پرموسلادھار سے طوفانی بارشوں کا امکان ہے۔
اس کے ساتھ گرج چمک، آندھی اور مختصر دورانیے کے کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) جیسی صورتحال  بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
31  جولائی تک وقفے وقفے سے بارش جاری رہیں گی مگر اس دوران  بارشوں کے کم از کم  2 سے 3  ادوار   متوقع ہیں۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں اس ہفتے مزید 75 سے 150 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے، جبکہ جڑواں شہروں میں بعض مقامات پر 200 ملی میٹر سے زائد بارش کا امکان ہے۔
یہ شدید بارشیں شہری اور دیہی نشیبی علاقوں میں سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں۔
براہ کرم برساتی نالوں سے دور رہیں! انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے، متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
تاہم فیصل آباد، چنیوٹ، جھنگ، اور بھکر جیسے وسطی علاقوں میں نسبتاً کم شدت کی بارش متوقع ہے۔


● خیبرپختونخوا:
28 جولائی کی رات یا 29 جولائی کی صبح سے 31 جولائی تک ہزارہ (ایبٹ آباد اور ہری پور سمیت)، مالاکنڈ، سوات (کالام اور مالم جبہ سمیت)، مانسہرہ، بالاکوٹ، مردان، صوابی، نوشہرہ، کاغان اور بابو سر میں وسیع  پیمانے پر گرج چمک کے ساتھ موسلادھارسے طوفا نی  بارش  کا امکان ہے۔
پہاڑی علاقوں میں 50 سے 150 ملی میٹر تک بارش متوقع ہے، جبکہ کچھ مقامات پر 200 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہونے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ کوہاٹ، بونیر، دیر، شانگلہ، کرک، ٹانک، بنوں، لکی مروت اور ڈی آئی خان میں 40 سے 75 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے۔
  اس دوران  پشاور میں بھی  30 ملی میٹر سے زائد بارش کا 90 فیصد امکان ہے۔

سفری ہدایت:
اس ہفتے کاغان اور سوات ویلیز سمیت شمالی علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کریں۔
ندی نالوں، دریاؤں اور بہتے پانی میں داخل نہ ہوں۔
لینڈ سلائیڈنگ (زمین کھسکنے) کا خطرہ موجود ہے۔

● جنوبی پنجاب:
ہوا کے کم دباؤ اور کمزور مغربی ہواؤں (WD) کے ملاپ کے نتیجے میں جنوبی پنجاب کے کئی علاقے متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں ڈیرہ غازی خان، ملتان، رحیم یار خان، خانپور، راجن پور اور بہاولپور کے انتہائی جنوبی علاقے شامل ہیں۔
ساہیوال اور پاکپتن میں موسلادھار بارش کے امکانات نسبتاً کم ہیں۔

⦾ آزاد کشمیر:
28 جولائی کی رات سے 31 جولائی کی صبح تک میرپور، پونچھ، مظفرآباد، باغ، بھمبر اور کوٹلی میں موسلادھار سے طوفانی بارش کا امکان ہے اور یہاں متعدد مقامات پر 150 ملی میٹر سے زائد بارش ہونے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ، کشمیر کے بیشتر علاقوں بشمول راولا کوٹ، ڈھڈیال اور وادی نیلم میں بھی موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

سفری ہدایت:
اس ہفتے نیلم ویلی اور دیگر شمالی علاقوں کا سفر نہ کریں۔
ندی نالوں، دریاؤں اور بہتے پانی کے قریب جانے سے گریز کریں۔
زمین کھسکنے (لینڈ سلائیڈنگ) کا خطرہ موجود ہے۔

● سندھ:
صوبہ سندھ کے شمالی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
اسی طرح، جنوب مشرقی اور جنوبی سندھ کے علاقوں جیسے کراچی، ٹھٹھہ، نگرپارکر اور مٹھی میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی توقع ہے۔

⦾ بلوچستان:
ژوب، خضدار اور بارکھان کے علاقوں میں شدید بارش کا امکان ہے۔
تاہم، صوبے کے دیگر علاقوں میں شدید بارش کا امکان نظر نہیں آتا۔
البتہ ڈیرہ بگٹی اور لسبیلہ میں وقفے وقفے سےمعتدل سے تیز بارش ہو سکتی ہے۔
قلات، کوئٹہ، سبی، کوہلو، لورالائی، ہرنائی، آواران اور لسبیلہ کے ملحقہ علاقوں میں محدود پیمانے پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
ہم گرج چمک کے دوران 50 سے 75 کلومیٹر فی گھنٹہ کی تیز ہوائیں بھی چلنے کی توقع ہے۔
خضدار میں بعض مقامات پر ایک دن میں 50 سے 75 ملی میٹر بارش ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

مزید مون سون اپڈیٹس کے لیے WBP کو فالو کرتے رہیں، ہم آپ کو تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے رہیں گے۔

About amnausmani

Check Also

18 فروری 2026 : مغربی سلسلہ کمزور، سندھ اور بلوچستان کے چند علاقوں میں بارش۔ ٹھٹھہ میں 21 ملی میٹر ریکارڈ

  موجودہ مغربی ہواؤں کے کمزور سلسلے کے زیرِ اثر ملک کے جنوبی اور مغربی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے