Home / بلاگ / کیا محکمہ موسمیات اور نجی موسمی اسٹیشنوں کے اعدادوشمار کا موازنہ کرنا درست ہے؟ موسم کا حال کا محکمہ موسمیات کی پریس ریلیز کا تجزیہ

کیا محکمہ موسمیات اور نجی موسمی اسٹیشنوں کے اعدادوشمار کا موازنہ کرنا درست ہے؟ موسم کا حال کا محکمہ موسمیات کی پریس ریلیز کا تجزیہ

محکمہ موسمیات کی پریس ریلیز کا تجزیہ: نجی موسمی اسٹیشن کے اعدادوشمار کا محکمہ موسمیات کے اعدادو شمار کے ساتھ موازنہ کس حد تک جائز ہے؟ کیا محکمہ موسمیات کو معلوم ہے کہ مختلف اعدادوشمار کے ذرائع حقیقی دنیا میں کیسے کام کرتے ہیں؟
آئیں 21 جولائی 2025 کو جاری کردہ پریس ریلیز کا تجزیہ کرتے ہیں: “چکوال میں 17 جولائی 2025 کو کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے 423 ملی میٹر بارش کی رپورٹ کے حوالے سے وضاحتی جواب”۔
اپنی پریس ریلیز میں محکمہ موسمیات کا دعویٰ ہے کہ نجی ذرائع سے غلط اور گمراہ کن ڈیٹا رپورٹ کیا گیا ہے اور محکمہ موسمیات کے ڈوپلر ریڈار اور بارش ناپنے کے نیٹ ورک پر ایسی کسی بارش کی تصدیق نہیں ہوئی ہے!
یہ بات کئی سوالات پیدا کرتی ہے:
1) سب سے پہلے یہ کہ کیا اسلام آباد میں محکمہ موسمیات کا ڈوپلر ریڈار کام کر بھی رہا ہے؟ آخری بار اندرونی ذرائع سے ہمیں پتا چلا تھا کہ ڈوپلر ریڈار کو بجلی کے کثیر استعمال کے باعث بند رکھا جاتا ہے! جی ہاں، آپ نے درست سنا! یہ کام نہیں کر رہا تھا۔۔۔ جو ڈیٹا اپگریڈ سے پہلے عوام کیلئے دستیاب تھا، اب اس کا تازہ ترین ڈیٹا دستیاب نہیں ہے اور ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ یہ مون سون کے دوران بہت کم آن لائن ہوتا تھا!
محکمہ موسمیات کو چاہئے کہ یہ ڈوپلر ریڈار کا ڈیٹا عوام کیلئے ہر وقت فراہم کرے کیونکہ یہ دورِ جدید ہے نہ کہ سن 1925!
2) دوسری بات: محکمہ موسمیات کے پاس خودکار موسمی اسٹیشنوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک موجود ہی نہیں! یہ محکمہ موسمیات کی سب سے بڑی کمزوری ہے اور اسی وجہ سے یہ جاہلانہ پریس ریلیز جاری کی گئی ہے! سرکاری محکمہ موسمیات کے نسبت نجی ادارے ویدر والے کے پاس موسمیاتی اسٹیشنز زیادہ ہیں! اسی  طرح بطور غیر منافع بخش ادارہ ویدر بسٹرز پاکستان موسم کا حال (WBP#) نے 2018 کے بعد سے اپنے نجی موسمی اسٹیشنز کے نیٹ ورک میں 540 فیصد اضافہ کیا ہے۔ تاہم محکمہ موسمیات نے اپنے خودکار موسمی اسٹیشنز کے پروگرام کو وعدے کے مطابق  نہیں بڑھایا ۔ محکمہ موسمیات کو خطّہٰ پوٹھوہار کی مائیکرو کلائمیٹ اور چھوٹے چھوٹے فاصلے پر بارش میں آنے والے فرق کا بھی کوئی علم نہیں، اس حد تک کہ موسم میں دلچسپی رکھنے والےہر شخص کیلئے یہ ایک مضحکہ خیز بات ہے! مثال کے طور پر ضلع چکوال کی تحصیل چوا سیّداں شاہ اور گاؤں وہالی زیر میں 16 جولائی 2025 کو ویدر والے کے موسمی اسٹیشنوں تقریباً 330 سے 360 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ موسمی آلات، فاصلے اور اس علاقے میں سیلاب کی رپورٹ کے مطابق یہ مقدار درست ہے۔ محکمہ موسمیات کو یہاں سے کچھ سیکھنا چاہیئے۔ صرف اس لئے کہ محکمہ موسمیات بارش کی مقدار میں اس فرق کو ریکارڈ نہیں کر سکا (کیونکہ محکمہ موسمیات کے پاس پورے ضلع چکوال اور ضلع تلاگنگ میں محض بھون میں رصدگاہ نصب ہے) اس کا مطلب یہ نہیں کہ نجی بارش رپورٹ کرنے والے ذرائع غلط ہیں۔ یہ Davis Pro 2 موسمی اسٹیشن پر ریکارڈ کی گئی بارش 3 فیصد کے اندر اندر درست ہوتی ہے، جو کہ محکمہ موسمیات کے خودکار آلات کے عین برابر ہے (جسے محکمہ موسمیات اپنا قاعدہ مانتا ہے)۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ نجی آلات محکمہ موسمیات کی بھون اور پی اے ایف میں مرید ایئربیس میں نصب رصدگاہوں سے 25 سے 30 کلومیٹر دور واقع ہیں۔ WBP جانتا ہے کہ ہر نجی موسمی اسٹیشن سے حاصل ہونے والے ڈیٹا میں ایک حد تک ایرر ہوتا ہے اور اسے دستی رین گیجز سے تصحیح کی ضرورت ہوتی ہے، جو بارش کے سب سے زیادہ درست ماخذ ہیں۔ Davis Pro 2 موسمی اسٹیشن کے ڈیٹا کو امریکی ادارے #NOAA، نیشنل ویدر سروس (#NWS) اور عالمی موسمی ادارے (#WMO) نے بطور قابلِ اعتماد نجی موسمی اسٹیشن تسلیم کیا ہے! محکمہ موسمیات کو اس حقیقت کا شاید علم نہیں!
اس پریس ریلیز میں صرف ایک بات درست ہے کہ یہ واقعی کلاؤڈ برسٹ نہیں تھا! اس موسمی سرگرمی کے دوران جو تقریباً نصف دن تک جاری رہی، بارش کی شدّت 40 سے 75 ملی میٹر فی گھنٹہ تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ WMO کی تعریف کے مطابق یہ واقعہ یا 17 جولائی کو راولپنڈی/اسلام آباد میں ہونے والا واقعہ کلاؤڈ برسٹ نہیں تھا۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ محض اس لئے کہ چکلالہ ایئربیس پر کُل بارش 230 ملی میٹر تھی تو گلشن آباد میں ہمارے موسمی اسٹیشن پر ریکارڈ کی گئی، کُل بارش 365 ملی میٹر بارش غلط ہو گئی۔ بارش کی یہ دو مقدار دو مختلف مقامات پر ریکارڈ کی گئی ہیں اور دونوں ہی بالکل درست ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دھمیال ایئربیس، راولپنڈی میں فوجی اڈّے پر تقریباً یہی بارش ریکارڈ ہوئی جو کہ موسم کا حال نے گلشن آباد میں ریکارڈ کی، جو کہ عکّاسی کرتی ہے کہ محکمہ موسمیات کو پاکستان بھر میں مزید خودکار موسمی اسٹیشن نصب کرنے پر توجّہ دینی چاہئے۔ دھمیال اور چکلالہ ایئربیس کے درمیان فضائی فاصلہ 10 کلومیٹر سے کم ہے، پھر بھی اس موسمی سرگرمی میں بارش کی مقدار میں تقریباً 130 ملی میٹر کا فرق تھا۔ اسی طرح میانہ تھب میں ہمارے موسمی سٹیشن پر 116 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ 7 کلومیٹر دور زراج ہاؤسنگ میں ہمارے موسمی اسٹیشن پر 290 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی!
محکمہ موسمیات نے وعدہ کیا تھا کہ وہ متعدد خودکار موسمی اسٹیشنز نصب کرے گا جیسا کہ تصاویر 3 اور 4 میں دکھایا گیا ہے۔ 2019 میں خیبر پختونخوا اور کشمیر میں مزید نئے خودکار موسمی اسٹیشنز لگانے کا وعدہ کیا گیا تھا، جن میں ایک راجنپور میں نئی موسمی رصدگاہ کی تنصیب کا عمل بھی شامل تھا (تصویر 2 دیکھیں)، لیکن محکمہ موسمیات نے اپنے ملکی خودکار موسمی اسٹیشنز کی وافر سپلائی کے باوجود ایسا نہیں کیا۔ درحقیقت، 2010 کی دہائی کے آخر میں نصب کئے گئے کئی خودکار موسمی اسٹیشنز آف لائن ہو چکے ہیں اور دوبارہ کبھی آن لائن نہیں ہوئے! اسی طرح 2022 کے سیلاب کے بعد محکمہ موسمیات کو عالمی بینک کی جانب سے 5 کروڑ ڈالرز کی بڑی مالی مدد ملی، تاکہ موجودہ موسمی رصدگاہوں کے نیٹ ورک کو اپ گریڈ کیا جا سکے اور 300 نئے خودکار موسمی اسٹیشنز بلوچستان اور سندھ میں نصب کئے جا سکیں جن کا ابھی تک اس کا کوئی عملی ثبوت نہیں ملا!
1) طوفان کے بعد موسمیاتی عوامل کی عدم آگاہی پر محکمہ موسمیات کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیئے۔
2) نئے خودکار موسمی اسٹیشنز نصب کرنے، موسمی رصدگاہوں کی اپ گریڈیشن اور 5 نئے موسمی ریڈارز کی تنصیب کیلئے جاری کردہ فنڈز پر پیش رفت اور ردّ عمل کہاں ہے؟!

About amnausmani

Check Also

18 فروری 2026 : مغربی سلسلہ کمزور، سندھ اور بلوچستان کے چند علاقوں میں بارش۔ ٹھٹھہ میں 21 ملی میٹر ریکارڈ

  موجودہ مغربی ہواؤں کے کمزور سلسلے کے زیرِ اثر ملک کے جنوبی اور مغربی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے